کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے بھارتی سیاسی جماعت کی گئو موترا پارٹی، شرکا کو گائے کے پیشاب سے بنا حلوہ، چاول اور آلو پوری بھی پیش کیے گئے
کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے بھارتی سیاسی جماعت کی گئو موترا پارٹی، شرکا کو گائے کے پیشاب سے بنا حلوہ، چاول اور آلو پوری بھی پیش کیے گئے نئی دلی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) دنیا بھر کے سائنسدان کرونا وائرس کی ویکسین بنانے کیلئے تگ و دو کر رہے ہیں لیکن بھارتی ہندوﺅں نے گاﺅں کے پیشاب کو کرونا کا علاج قرار دے دیا۔ اس حوالے سے ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ہفتہ کے روز ’ گئو موترا ‘ پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں شرکا نے کرونا وائرس سے بچنے کیلئے گائے کا پیشاب پیا۔ بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں ہندو انتہا پسند سیاسی جماعت ’ اکھِل بھارت ہندو مہا سبھا ‘ کی جانب سے کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے گئو موتر ا پارٹی رکھی گئی تھی۔ اس پارٹی میں 200 لوگوں نے شرکت کی اور اجتماعی طور پر گائے کا پیشاب پیا ۔ پارٹی میں شرکا کی ریفریشمنٹ کیلئے حلوہ، آلو پوری، اور چاول بھی پیش کیے گئے جن میں گائے کا پیشاب شامل کیا گیا تھا۔ گئو موترا پارٹی میں شریک ہونے وال...